Chairman PTI (Pakistan Tehreek-e-Insaf) Imran Khan Excellent Victory Speech after Winning Pakistan General Election 2018

Chairman PTI (Pakistan Tehreek-e-Insaf) Imran Khan's Excellent Victory Speech after Winning Pakistan General Election 2018
Chairman PTI (Pakistan Tehreek-e-Insaf) Imran Khan Excellent Victory Speech after Winning Pakistan General Election 2018
🎬 🎧 ► Watch Online




بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

پاکستان کے عام انتحابات 2018  
 میں پاکستان  تحریک  انصاف  کی شاندار فتح کے بعد چیئرمین پی ٹی آئی کا قوم سے خطاب

میں آج الله کا شکرادا کرتا ہوں، کہ بائیس سال کی سٹرگل جو آج سے ( انیس سو  چھیانوے) میں، میں نے شرو ع کی،اور آج الله نے اٌس مقام پہ  مجھےپہنچایا ہے ، کہ ایک موقع مجھے دیا ہے کہ میں  وہ جو میری خواب تھی ، ایک "پاکستان " کی ، خواب لے کہ چلا تھا ،مجھے  الله نے مو قع دیا ہے ، کہ میں اس خواب کو پورا کر سکوں.

ایک فیز  تھی ، ایک سٹرگل، اک اونچ نیچ

 اور اب دوسرا فیز ہے کہ الله نے مو قع دیا ہے کہ اقتدار میں آ کےوہ manifesto وہ منشور ، وہ نظریہ، وہ میں امپلیمنٹ کروں، جو میں بائیس سال پہلے لے کے نکلا تھا.

تو پہلے میں واضع کر دوں ، کہ بائیس سال پہلے  میں کیوں سیاست میں آیا؟

ایک وہ آدمی جس کو الله نے سب کچھ دیا تھا ، اس کو کوئی پولیٹکس کچھ نہیں دے سکتی تھی، جو کچھ بھی نہ کرتا ، تو بڑے آرام سے اپنی باقی کی زندگی گزار  سکتا تھا.

میں پولیٹکس میں اس لیے آیا تھا کہ میں یہ سمجھتا ہوں، کہ جو ہمارے ملک کا پوٹینشل تھا، جو ہمارا ملک جس طرح  اوپر جا رہا تھا، جب میں بڑا ہو رہا تھا اس پاکستان میں، میں یہ، میں نے خود دیکھا کہ یہ ملک اوپر جاتے ہوئے، نیچے آتا، اور ہم نے نیچے آتا ایسے دیکھا  کہ ایک گورنر سسٹم کا collapse دیکھا اور کرپشن کا، تو اس لیے میں جب آیا تو میں یہ چاہتا تھا کہ پاکستان ایک وہ ملک بنے جو ہمارے، میرے لیڈر قائد اعظم محمد علی جناح  جنہوں نے اس جو سوچا تھا پاکستان .

میں الیکشن پہ پہلے آتا ہوں
یہ الیکشن ایک تاریخی الیکشن ہوا ہے پاکستان میں، اس الیکشن کے اندر لوگوں نے قربانیاں دی ہیں، اس الیکشن کے اندر دہشتگردی ہوئی ہے، میں آج خاص طور پر بلوچستان کے لوگوں کو داد دینا چاہتا ہوں، کہ جس طرح کی مشکلات ان کو سامنا کرنا پڑیں، جس طرح کی وہاں دہشتگردی ہوئی ، اسکے باوجود جس طرح  بلوچستان کے لوگ نکلے ہیں ، میں آج سارے پاکستان کے لوگوں کی طرف سے بلوچستان کے لوگوں کو داد دینا چاہتا ہوں. خراج ِ تحسین پیش کرنا چاہتا ہوں. میں جو سینز دیکھے ٹی وی کے اوپر جس طرح بوڑھے ، معذور، گرمی کی انتہا میں نکلے ووٹ دینے کے لیے ، اوورسیز پاکستانی جس طرح شرکت کرنے کے لیے ، میں اس ساروں کو آج داد اس لیے دینا چاہتا ہوں کہ انہوں نے ہماری جمہوریت کو مضبوط کیا. ہم اب یہ دیکھ رہے ہیں کہ پاکستان کا جو جمہوری evolutionہے ہم اپنی جمہوریت کا جو پراسیس ہے وہ بڑھتے دیکھ رہے ہیں اور اس ساری چیزوں کے باوجود جتنی بھی ہمیں مشکلات آئی، ہمارے اکرام گنڈہ پور suicidebomber سے شہید ہوئے ، اس سے پہلےایک suicideattack سے ہارون بلور شہید ہوئے، اور ،اور کتنے اور لوگ مارے گئےتو اس سب کے باوجود یہ الیکشن کا پراسیس کمپلیٹ ہوا . اس میں سیکورٹی فورسز کو میں داد دینا چاہتا ہوں، انکے بھی اہلکار جان کھو بیٹھے،میں اپنی پارٹی کے لوگوں کوجدھر ہمیں تقریباً دس جگہوں کے اوپر ہمیں  threat تھی   suicideattacks  کی میں ان سب کو آج   خراج ِ تحسین پیش کرتا ہوں کہ سب چیز کے باوجود ہم یہ الیکشن  لڑے اور الله کا شکر ادا کرتا ہوں کہ آج ہم کامیاب ہوئے اور مینڈیٹ بنا .

 اب میں صرف مختصر یہ بتانا چاہتا ہوں کہ میں کس طرح کا پاکستان دیکھنا چاہتا ہوں

جو میں اب ، جدھر آج ہم کھڑے ہوئے ہیں ، ہم کس طرح کا پاکستان چاہتے ہیں ، دیکھیں میں ، میری جو inspiration تھی وہ ہمارے نبی (صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم) نے جو مدینہ کی ریاست بنائی، اس ریاست کے اندر جس طرح کا انسانیت کا نظام آیا، پہلی دفعہ دنیا کی تاریخ میں ایک فلاحی ریاست بنی، ایک ریاست نے ذمہ داری لی اپنے کمزور طبقے کی ،  پہلی دفعہ ایک ریاست نے  بیواؤں کی، معذوروں کی، یتیموں کی،

ایک یہ بھی اسٹیج آئی کہ خلیفہ ِ وقت نے کہا کہ "اگرکتا بھی  میری ریاست کے اندر بھوکا مرے تو میں ذمہ دار ہونگا".

میں وہ اس ریاست ، میں پاکستان ، میری inspiration یہ ہے کہ پاکستان اس طرح کا ایک انسانیت کا نظام بنے.

جدھر ہم اپنے کمزور طبقے کی ذمہ داری لیں،

جو ہماری ریاست بن گئی ہے اسکا الٹا ہے، یہ جانوروں کا نظام ،  حیوانوں کا نظام ، کہ جس کی لاٹھی اس کی بھینس،

 کمزور بیچارے بھوکے مر رہے ہیں ، جس ریاست کے اندر آدھی آبادی تقریباً غربت کی لکیر سے نیچے ہو یا غربت کی لکیر کے اوپر ہو، اس ریاست کے اندر ، ہم کیسے کہہ سکتے ہیں کہ وہ بڑا ایک عظیم خواب تھا ، جو پاکستان کا تھا،

تو جو انشاءاللہ میری کوشش ہو گی، میں انشاءاللہ آپکو ثابت کر کے دکھاؤں گا، ہماری ساری policies بنیں گی اپنے کمزور طبقے کو اٹھانے کے لیے، ہماری policies بنیں گی کہ ہم نے کس طرح جو ہمارے مزدور ہیں  بیچارے سارا دن محنت کرتے ہیں  ، پیسہ نہیں بنتا  کہ اپنے بچوں کو فیڈ کر سکیں.

ہمارے جو کسان ہیں ، غریب کسان ہیں  جو سارا دن، سارا سال محنت کرتے ہیں ، انکو پیسہ ہی نہیں ملتا  کہ وہ انکے  بچوں کو صحیح خوراک دے سکیں. ہمارے پینتالیس فیصد بچے انکو بیماری ہے، stunt گروتھ  ہے، نہ وہ پورے قد پہ پہنچ سکتے ہیں ، نہ انکے ذہن گروو کر سکتے ہیں ، پینتالیس فیصد بچے کو ہم نے یعنی کہ موقع ہی نہیں دیا اس ملک میں آگے جانے کا. ڈھائی کروڑ پاکستانی بچہ اسکولوں سے باہر ہے، قوم ملکوں کی آبادی ہی نہیں ہے جتنا پاکستانی بچہ اسکولوں سے باہر ہے.

 قوم ملکوں کی آبادی  ڈھائی کروڑ نہیں ہے جتنے ہمارے بچے اسکولوں سے باہر ہیں اور ہمارا ، ہماری خواتین  یعنی دنیا میں تقریباً سب سے زیادہ ہماری خواتین   pregnancy  میں ہیں، ڈلیوری   کے پوائنٹ پہ مرتی ہیں، کیونکہ ہم انکو بنیادی ہیلتھ کیئر نہیں دے سکتے.

ہماری دنیا کے اندر  heighest ریٹ ہے کہ گندا پانی پینے کی بیماریوں سے ہمارے بچے مرتے ہیں کیونکہ ہم صاف پینے کا پانی نہیں دے سکتے تو میری انشاءالله  کوشش یہ ہو گی کہ ہم پورا زور لگایئں اس ملک میں ، اس نیچے ،  اس نیچلے طبقے کو اوپر اٹھانے کے لیے
ہماری ساری  policies بنیں کہ ہم نے human ڈویلپمنٹ، انسانوں کو کیسے develop کرنا ہے اور میں چاہونگا  کہ ہمارا سارا  ملک اس طرف سوچے. یہ نہ سوچیں کہ ایک ملک ایسا  نہیں ، ایک ملک کی پہچان یہ نہیں ہوتی کہ انکے امیر لوگ کیسے رہتے ہیں ، ملک کی پہچان ہوتی ہے کہ انکا غریب  طبقہ کیسے رہتا ہے، کمزور طبقہ کیسے رہتا ہے،

کوئی بھی ملک ترقی نہیں کر سکتا جدھر ایک چھوٹا سا جزیرہ ہو امیر لوگوں کا  اور غریب لوگوں کا سمندر، کوئی ملک آگے ایسے نہیں بڑھتا،

ہمارے سامنے مثال ہے چائنہ کی، چائنہ  نے تیس سال میں ستر کروڑ لوگوں کو غربت سے نکالا ہے،  دنیا کی تاریخ پر اسکی کوئی مثال نہیں  اور اسکے علاوہ جو مدینہ کی ریاست جو ہم سارا مسلمان ہم  دنیا کے عظیم لیڈر نبی (صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم) کی مثال دیتے ہیں ، وہ پہلی ریاست تھی جدھر ،جو ایک  فلاحی ریاست تھی اور وہ انہوں نے پرنسپلز سیٹ کیے تھے اس ریاست کے ،

جس میں قانون کے سامنے سب ایک برابر تھے،

قانون کی بالادستی تھی،

 جس میں انسانیت تھی

جس میں میریٹ تھی

جس میں عدل تھا یعنی کہ پیسے والوں سے پیسہ لے کہ نیچلے طبقے کے اوپر خرچ کرتے تھے انہوں نے ہمیں بتایا کہ کیسے ایک ریاست کو کن پرنسپلز پہ بنایا ، جو کہ دنیا کی عظیم  civilization سات سو سال تک بنے

ہم نے اسی، انہی  پرنسپلز کے اوپر انشاءالله  میری کوشش ہو گی ، پاکستان کو ان پرنسپلز پہ لانے کے لیے
میں آج اس مو قع پہ چاہتا ہوں کہ سارا پاکستان unite ہو ، میں یہ واضح کرنا چاہتا ہوں کہ کوئی بھی ہمارا جو مخالف ہوا ، ہمارے خلاف جنہوں نے ووٹس  دیے ، میرے اوپر ذاتی طور پر کبھی بھی کسی ، میرے خیال میں کسی سیاسی لیڈر پہ اس طرح کے پرسنل اٹیکس نہیں ہوئے ، جو میرے پہ پچھلے تین سال میں ہوئے.

میں ان ساروں کو، ان سب کو بھول چکا ہوں ، یہ سب میرے پیچھے ہیں ،
یہ میری ذات کی بات نہیں ہے یہ میرے منہ کی بات ہے،

ہمارا جو کاز ہے وہ میری ذات سے بہت بڑا ہے ، کوئی انشاء الله  میں یہ ثابت کر کے دکھاؤں گا کہ یہ پہلی گورنمنٹ آئے گی جو کسی قسم کی پولیٹیکل victimization نہیں کرے گی

 کسی مخالف کے خلاف  سیاسی انتقامی کروائی نہیں کرے گی

ہم قانون کی بالا دستی قائم کریں گے

قانون کی بالادستی کا مطلب ، ہمارا کوئی غلط کرے گا اسکو بھی قانون پکڑے گا ، جو مرضی غریب ، امیر، طاقتور، کمزور

جو اس ملک کے قانون کے خلاف جائے گا ، اسکے خلاف ہم ایکشن لیں گے

میں انشاءالله  آپکو ثابت یہ کر کے دکھاؤں گا کہ ہم ایسے مضبوط ادارے بنا دیں گے، ہماری جو   institutions ،  اسٹیٹ   institutions  وہ اتنی مضبوط ہوں گی کہ روکیں گی کرپشن، وہ سب پہ ایسا چیک رکھیں گی جو گورنمنٹ پہ لوگ بیٹھے ہیں ، عمران خان پہ چیک رکھیں گی ، عمران خان کے وزیروں پہ رکھیں گی

اکاؤنٹیبلٹی شرو ع ہو گی میرے سے ، پھر ہو گی میرے وزیروں سے، پھر ہم نیچے جایئں گے یعنی جو آج اگر پاکستان میں کرپشن نے ملک کو کینسر کی طرح کھا رہی ہے ، اسکی وجہ یہ ہے  کہ قانون ہے جو اقتدار میں ہے اور دوسرا قانون ہے جو کہ باہر ہے ، تو صرف اکاؤنٹیبلٹی جو اپوزیشن  میں بیٹھے ہوتے ہیں انکی ہوتی ہے

ہم انشاءالله اس میں  آپکو مثال سیٹ کر کے دکھائیں گےکہ قانون سب کے لیے ایک برابر ہو گا
آج اگر مغرب ہمارے سے آگے ہے ، انکی سب سے بڑی ایڈوانٹیج یہ ہے کہ انکا قانون امتیاز نہیں کرتا  لوگوں میں

قانون کی بالادستی ہے ، جتنا مہذب معاشرہ ، اتنا  انکے ادرارے مضبوط اور انکا انصاف کا نظام مضبوط  ہے
 تو یہ ہمارا سب سے بڑا guiding principle ہو گا پاکستان کے اندر کہ ہم انشا ءالله  اس ملک میں قائم کریں گے وہ ادارے جو کہ انشاء الله  اس ملک کی گورننس سسٹم ٹھیک کریں گے، جب تک اس ملک کا گور ننس سسٹم ٹھیک نہیں ہوتا ، یہاں انویسٹمنٹ نہیں آئے گی

ہمارا جو اس وقت اکنامک challenge ہے  پاکستان کی تاریخ میں سب سے بڑا آج پاکستان اکانومی کا چیلنج فیس کر رہا ہے ، ہمارا کبھی بھی تاریخ پہ اتنا بڑا fiscal deficit نہیں تھا، ہمارا کبھی پاکستان کی تاریخ میں اتنا ٹریڈ  deficit نہیں ہے ، کبھی پاکستان کی تاریخ میں اتنے قرضے نہیں لئے ہوئے ، کبھی پاکستان کی تاریخ میں روپیہ اتنا نیچے نہیں گرا،   ڈالر کے مقابلے میں ، یہ ساری چیزیں اس لیے ہیں کہ ہماری جو اکانومی ہے وہ ایک ، ادارے جو فنکشن نہیں کر رہے ، ڈس فنکشن اداروں کی وجہ سے ہماری اکانومی نیچے جا رہی ہے ،

ہم نے پہلے گورننس سسٹم ٹھیک کرنا ہے ،

ہم نے ماحول بنانا ہے ، بزنس کے لیے ، cost of doing business and ease of doing business ، بزنس ہم نے ٹھیک کرنے ہیں ، میرے خیال میں  جو  ہمارا سب سے بڑا  اثاثہ ہے ، وہ ہے ہمارے  اوورسیز پاکستانی، ان کو  انشاء الله ہم اس ملک میں دعوت دیں گے ، ہم ان کو گورننس ٹھیک کر کے موقعے دیں گےکہ اس ملک میں انویسٹمنٹ کریں ، ہاں آج تک اگر اوورسیز پاکستانیز نے پاکستان میں اس طرح کی انویسٹمنٹ نہیں کی ، جو ان کو کرنی چاہیے تھی ، اس کی سب سے بڑی وجہ ہے کہ کرپشن نے پاکستان کے ادارے تباہ کر دیے ہیں اور کرپشن ایک deterrent ہے ، کرپشن کی وجہ سے آتی نہیں ہے انویسٹمنٹ ، لوگ دبئی انویسٹ کر لیتے ہیں ، ملائیشیاء چلے جاتے ہیں ، پاکستان میں نہیں انویسٹمنٹ آ رہی ، جس کا دوسرا پرابلم ہے بیروزگاری

ہمارا دنیا کا سیکنڈ  youngest پاپولیشن ہے ، ان کو روزگار چاہیے ، جب تک انویسٹمنٹ نہیں آئے گی ، ہم ان کو کدھر سے نوکریاں ڈھونڈ کر دیں گے

تو آج جدھر پاکستان کھڑا ہے ، میں آپکے سامنے، قوم کے سامنے ، آج یہ  کہہ رہا ہوں ،کہ ہم پاکستان کو ایسے چلائیں گے ، جو کبھی پاکستان پہلے نہیں چلایا گیا.

وہ گورننس دیں گے جو پاکستان میں کبھی پہلے ایسی  گور ننس نہیں آئی اور وہ شروع کریں گے اپنے آپ سے، اپنے آپکو اداروں کے نیچے لے کر آئیں گے، اور سادگی قائم کریں گے، میں یہ جو آج آپکو ، آپ کے سامنے pledge کر رہا ہوں  کہ اب تک جو ہمارے حکمران آتے ہیں  وہ پیسہ اپنے اوپر خرچ کرتے ہیں ، شان و شوکت میں، بڑے  بڑے محلات میں،ان کے بیرون ملک دوروں میں اپنے اوپر عیاش و عشرت سے رہتے ہیں ،

جس طرح ہماری رولنگ لیڈ اب تک پیسہ خرچ کرتی رہی ہے،کیسے لوگ ٹیکس دیں گے، وہ ملک جو دنیا میں سب سے زیادہ خیرات، پانچ ملکوں میں سب سے زیادہ خیرات دیتے ہیں ، وہ دنیا میں سب سے کم ٹیکس دیتا ہے ، ٹیکسز ہی نہیں دیتا کہ لوگ دیکھتے ہیں کہ انکے ٹیکسوں کے اوپر ، جو ہمارے صاحب ِ اقتدار ہیں ، رولنگ لیڈ ہیں ، وہ جس طرح بے دردی سے انکا پیشہ خرچ کرتی ہے اپنے اوپر ،چوری  کرتی ہے ، اپنے اوپر خرچ کرتی ہے، انکا پیسہ منی لانڈرنگ کرتی ہے ، لوگ کیوں ٹیکس دیں گے،تو  انشاء الله میں سب سے پہلے آپ کے سامنے یہ  pledge کرتا ہوں ، آج میں آپ کے سامنے وعدہ آپ سے کرتا ہوں، عوام کے ٹیکس کے پیسے کی میں حفاظت کروں گا ، اپنے سارے ہم خرچے کم  کریں گے، میں آج آپکے سامنے کہ رہا ہوں کہ پرائم منسٹر ہاؤس  یہ شاہانہ  محل ، ایک وہ ملک جو کہ ، جس کی آدھی آبادی  غربت کی لکیر سے نیچے ہے ، وہاں کوئی ، مجھے شرم آئے گی کہ میں جا کر پرائم منسٹر  ہاؤس میں رہوں گا ، اتنے بڑے محل کے اندر

 میں ،ہم ، ہماری گورنمنٹ فیصلہ کرے گی کہ ہم نے پرائم منسٹر ہاؤس کا کیا کرنا ہے ، اس کو  ہم کوئی ایجوکیشنل  انسٹیٹیوٹ کے لیے ہم استعمال کریں گے، سادگی سے کوئی لیں گے کوئی چھوٹی سی جگہ، منسٹر انکلیو کے اندر،  جدھر  پرائم منسٹر رہے گا ،

ہم سارے گورنر ہاؤسز کو پبلک کے استعمال کے لیے use کریں گے. کہیں جس طرح  نتھیا  گلی کا گو ر نر ہاؤس ہو  اس  کو ہوٹل بنا دیں گے، تا کہ اس سے انکم آئے پبلک کے لیے  بجائے بادشاہ کی طرح  جا کے جو صاحب ِ اقتدار ہیں ، رہیں وہ  لوگوں کے ٹیکس کے پیسوں سے، ہر جگہ جتنے بھی ہلز  resorts ہیں ، سب کو  کمرشلی ہم استعمال کریں گے تاکہ وہ پیسہ بنائیں، انکے پیسے سے مقامی لوگوں پہ لگایا جائے ، کہنے کا میرا یہ مقصد ہے کہ پاکستان میں جو آج تک صاحب ِ اقتدار عوام کے ٹیکس کے پیسے پہ عیاشیاں کرتے رہے ہیں یہ انشاءالله  میرا، آج آپ سے وعدہ ہے کہ یہ میں چینج کروں گا .

اپنے سے شروع کرونگا، اپنے وزیروں سے شروع کرونگا ، پارلیمنٹرینز کو صحیح کریں گے، سارے  جتنے بھی ہمارے پارلیمنٹرینز ہیں ، ساروں کو ہم  ایک قوم کو یہ بتائیں گےکہ یہ ہم نے اس اکنامک  کرائسیز سے نکلنا ہے ، ہمیں کوئی باہر سے ملک آ کے بچانے نہیں لگا ، ہم نے اپنے ادارے مضبوط کرنے ہیں ، ہم نے اپنی بساط سے اپنے خرچے کم کرنے ہیں  اور ہم نے پھر اپنی آمد نی بڑھانی ہے .

ہم نے businessess کے ساتھ مل کے ، ہم نے اپنی بزنس  community کے ساتھ مل کے policies بنانی ہیں  تاکہ ویلتھ  creation ہو. جتنا پیسہ بنے گا اتنا ملک امیر ہو گا، اتنا ہمارا ٹیکس زیادہ اکٹھا ہو گا ، اتنی ہم نوکریاں دیں گے لوگوں کو، اپنے نوجوانوں کو نوکریاں دیں گے

تو یہ آج پھر میرا جو ، یہ جو دوسرا pledge یہ آپ سے ہے انشاءالله ہم ٹیکس کلچر ٹھیک کریں گے ، ہم ٹیکس کلچر ایک ایسا بنائیں گے جو عام لوگوں کے  لیے یہ پتا چلے گا  لوگ اس لیے ٹیکس دیں گے کہ انکو پتا چلے گا کہ انکا ٹیکس ان پر خرچ ہوتا ہے،انکا ٹیکس  چوری نہیں ہوتا

انٹی کرپشن کو ہم مضبوط کریں گے

نیب کو اور مضبوط کریں گے

ایف بی آ ر جیسے اداروں کو ہم restructure کریں گے

انشاءالله جو کسان ،ساری گورنمنٹ مدد کرے گی کہ یہ کسان کس طرح پیسہ بنائے  تاکہ اپنی زمین پر لگائے، تاکہ پیدوار بڑھے اس ملک کے اوپر

چھوٹے بزنسز کی مدد کریں گے ، نوجوانوں کے لیے نوکریاں ڈھونڈنے کے لیے نئی نئی چیزیں لے کے آئیں گے ،مثلاً انکے لیے سکلز ایجوکیشن  کریں گےتاکہ انکو موقع ملے  ہنر سیکھیں وہ  تعلیم حاصل کر کے ،نوکریاں ملیں ان کو

تو یہ دوسری چیز کہ جو بھی ہمارا پیسہ ہو گا  وہ human ڈویلپمنٹ پہ جائے گا، انسانوں کے اوپر انشاءالله اپنی جو یوتھ ہے اسکے اوپر ہم خر چ کریں گے،
میرا جو ،

اگلی آپ سے میں بات کرنا چاہتا ہوں وہ یہ ہے کہ ہمارا س وقت فارن پالیسی میں بہت بڑا چیلنج ہے پاکستان کہہ سکتے ہیں

اگر کسی ملک کو اس وقت امن کی ضرورت ہے ، سٹیبلٹی کی ضرورت ہے وہ پاکستان ہے

ہمارے پاس ، ہمارا اکنامک کراسئیز اس وقت ایسا ہے کہ ہم چاہتے ہیں کہ ہمارے سارے ،ہمارے جو neighbours  ہیں ان سے ہمارے تعلقات اچھے ہوںتاکہ ہم concentrate کریں اپنی  nation بلڈنگ پہ

تو ، سب سے پہلے تو ہمارا جو neighbour ہے  چائنہ،اس سے ہم اور مضبوط کریں گے اپنے relationship  چائنہ

ایک بڑا ہمیں مو قع دیتا ہے کہ چائنہ کے جو سی پیک ، جو انہوں نے پاکستان میں پراجیکٹ شروع کیا ہے ، اس سے ہمیں مو قع ملتا ہے کہ ہم اسکو سی پیک کو استعمال کر کے انویسٹمنٹ پاکستان کے اندر لے کر آئیں.

دوسرا چائنہ سے جو ہم سیکھنا چاہتے ہیں وہ جو میں بات کہہ بیٹھا ہوں ستر کروڑ لوگ چائنہ نے غربت سے تیس سال میں نکالے ہیں اور میں انشاءالله ہماری پوری کوشش ہو گی کہ چائنہ سے جو poverty alleviation ہے ، ہم ٹیم بھیجے گےکہ کیا کیا انہوں نے سٹیپس لئے کہ کس طرح ہم اپنے نیچلے طبقے کو اوپر اٹھائیں

کس طرح ہمارا یہ جو ، جو لوگ دو وقت کی روٹی نہیں کھا سکتے ، ہماری ساری کوconcentration ہو گی کہ ہم نے انکو کیسے نکالنا ہے

چائنہ سے دوسری چیز جو ہم سیکھ سکتے ہیں وہ کرپشن ہے ، چائنہ نے کرپشن کے اوپر جس  طرح جو measures لیے ہیں ، جس طرح کے انہوں نے چار سالوں کے اندر چار سو وزیروں کو پکڑا ہے ، انہوں نے ایک مثال سیٹ کی ہے کہ کرائم does not pay، جب آپ ایک کرپشن کے اوپر ، اوپر سے کرپشن کے اوپر پڑتے ہیں تو تب کرپشن ایک معاشر ے میں نیچے آتی ہے.

  تووہ کرپشن کے اوپر بھی انشا ءالله ہم چائنہ سے سیکھیں گے، ان سے اور اپنے تعلقات مضبوط کریں گے
دوسرا ملک ہے افغانستان ، افغانستان ایک وہ ملک ہے جس نے سب سے زیادہ war on terror یہ جو war on terror اور اس سے پہلے جو افغان جہاد تھی ، سب سے زیادہ کس نے ، انسانوں نے، اس دنیا کے انسانوں نے سب سے زیادہ جو تکلیف اٹھائی ہے وہ ہے افغانستان کے لوگ  اور افغانستان کے لوگوں کو امن کی ضرورت ہے

اسکے بعد جو ملک چاہتا ہے افگانستان میں امن وہ پاکستان ہے

افغانستان میں امن ہو گا تو پاکستان میں امن ہو گا

ہماری پوری کوشش ہو گی، ہماری گورنمنٹ کی کہ ہم ہر طرح افغانستان میں امن لانے کی کوشش کریں
میں تو یہ بھی چاہتا ہوں کہ افغانستان میں ہمارے ایسے تعلقات ہو جائیں کہ ہمارے  اوپن باڈرز ہوں
 جس طرح یورپئین  یونینزکے اوپن باڈرز ہیں

ہمارے  بھی ایک دن افغانستان سے اوپن باڈرز ہوں

میں یہ چاہتا ہوں کیونکہ افغانستان میں امریکہ involve ہے ، میں چاہتا ہوں کہ امریکہ کے ساتھ بھی ، یونائیٹڈ states کے ساتھ  ہمارے ایک ایسے تعلقات ہوں جو کہ mutually beneficial ہوں
یعنی ایک ایسے ہوں جو دونوں ملکوں کے لیے فائدہ مند ہوں

ابھی تک بد قسمتی سے ہمارے تعلقات ون وے  رہے ہیں

یعنی کہ امریکہ سمجھتا ہے کہ پاکستان کو  امداد کرتا ہے انکی امریکہ کی جنگ لڑنے کے لیے ، اس سے پاکستان کو بہت نقصان پہنچا ہے

 ہم یہ relationship چاہتے ہیں امریکہ سے کہ دونوں ملکوں کو فائدہ ہو

ایک بیلنس relationship ہو اور انشاءالله ہم پوری کوشش کریں گے اس بیلنس relationship کے لیے

ایران ہمارا ہمسایہ ہے ، ایران سے ہم بلکل اپنے تعلقات اور بہتر کرنا  چاہتے ہیں

سعودی عرب ہمارا سب سے ایک ایسا دوست ہے جو ہر مشکل وقت میں پاکستان کے ساتھ کھڑا رہا ہے ، ہماری کوشش ہو گی کہ ہم جو بھی کر سکیں ،

جتنی بھی ہماری طاقت ہو  مڈل ایسٹ کے اندر ہم کنسیلیئشن یعنی ہم ایک ثالث کا کردار ادا کریں  تاکہ ہم یہ جو  tensions ہیں مڈل ایسٹ میں ، آپس  میں یہ جو لڑائیاں ہیں ، جو neighbour کے بیچ میں ہیں ، انشاءالله ہماری پوری کوشش ہو گی کہ ہم اس کو اکٹھا کریں، ہم یعنی ایک ، ایک اور ملک بنے ، جو کہ لڑائیاں ختم کرے  بجائے لڑائیوں کے اندر شرکت کرے ، جو اب تک بد قسمتی سے ہم کرتے آئے ہیں  اور اس سے پاکستان کو بہت نقصان پہنچا ہے
پھر ہندوستان ، مجھے تھوڑا افسوس ہوا   یہ پچھلے چند دن ، یہ الیکشن میں کہ جو ہندوستان کے میڈیا نے جس طرح  میری، مجھے portray کیا  ہے ایسا لگا جیسے میں کوئی بالی ووڈ  فلم کا ولن ہوں

یعنی ایسے لگا  کہ جیسے ہر چیز جو ہندوستان کے لیے بری ہے وہ  ہو گی اگر عمران خان طاقت میں آ جائے
 میں وہ پاکستانی ہوں جو شاید ہندوستان میں سب سے زیادہ واقفیت لوگوں سے ہے، ہندوستان سارا پھر ا ہوں  کرکٹ کی وجہ سے

میں وہ پاکستانی ہوں جو سمجھتا ہوں کہ اگر ہمارے اور پاکستان اور ہندوستان کے تعلقات اچھے ہوتے ہیں تو یہ برصغیر کے لیے بہتری ہے ، اگر ہم یہ غربت کم کرنا چاہتے ہیں برصغیر میں ، جو کہ سب سے نمبر ون priority ہونی چاہیے، کسی بھی گورنمنٹ کی ، سب سے بہتر یہ ہو کہ ہماری ایک دوسرے سے ٹریڈ  tiesچلے ، ہم ایک دوسرے سے تجارت کریں  

اور جتنا ہم تجارت کریں گے ، دونوں ملکوں کا فائدہ ہے ، بد قسمتی یہ ہے کہ ہمارے ایشوز کے اندر جو سب سے بڑا  ایشو، کور ایشو ہے وہ کشمیر ہے ، کشمیر میں جو حالات ہیں  اور جو کشمیر کے لوگوں نے پچھلے تیس سال میں جو ، جو انکی humen rights violation ہو رہی ہے ، جو ہونی تھی ، اگر فوج سے مسئلے حل ہوں، اور شہری علاقوں میں  آپ فوج لے کے جائیں گے، کہیں بھی دنیا کی فوج  جب شہری علاقوں میں جاتی ہے، humen rights  violation ہے

اور کشمیری لوگوں نے بڑا suffer کیا ہے اس پر، کوشش ہونی یہ چاہیے پاکستان اور ہندوستان کی لیڈرشپ کو ، کہ ہمیں ٹیبل پہ بیٹھ کے ، ہم کوشش کریں اس مسئلے کو حل کرنے کی، یہ جانے تو نہیں لگا

اور اگر یہی blame گیم  چلتی رہے گی کہ جی ، پاکستان کی وجہ سے یہ ہو رہا ہے ، پاکستان  سارا ، ہم سمجھتے ہیں کہ بلوچستان میں جو ہو  رہا ہے وہ ہندوستان کی وجہ سے ہو رہا ہے ، یہ تو ہم square one پہ ہیں اس وقت

میں یہ چاہوں گا کہ اگر  ہندوستان کی لیڈرشپ تیار ہے ، ہم بلکل تیار ہیں کہ ہم اپنے تعلقات بہتر کریں
آپ ایک قدم ہماری طرف آئیں گے، ہم دو قدم آپکی طرف  جائیں گے، لیکن آگے بھی توبڑھیں
ابھی تک تو یہ ایک one sided قسم کی relationship ہے  کہ blame  کیا جا رہا ہے پاکستان کو ، ہر ، جس قسم کی دنیا میں  کہیں دہشتگردی ہو  تو پاکستان کو blame کیا جاتا ہے

تے میں یہ چاہونگا ، یہ میرا ، میں ، یہ ہم ، میں convection سے کہہ رہا ہوں کہ یہ دونوں، یہ  subcontinents کے لیے سب سے ضروری چیز ہے کہ ہمارے ملکوں کے اندر دوستی ہو، اور ہم اپنے جو مین  ایشو ہیں  اس کو dialogue سے حل کریں ،

میں آخر میں ، آخر میں ، میں پاکستانیوں سے ، اپنی قوم سے pledge کرتا ہوں کہ انشاءالله  میں آپکو ثابت کر کے دکھاؤں گا کہ یہاں بھی ہم اپنا گو ر ننس سسٹم ٹھیک کر سکتے ہیں

ہم بھی ایک ایسا گو ر ننس سسٹم لا سکتے ہیں جو  عوام کی زندگی آسان کرے، جو ایسا گو ر ننس سسٹم جو مو قع دے گا لوگوں کو پاکستان میں انویسٹ کرنے کا

میں یہ آج آپ سے  pledge کرتا ہوں کہ کوئی بھی میری ساری کوشش ہو گی کہ عمران خان سادگی اختیار کرے، کوئی بدلے نہ میں آپکی طرح کا ایک شہری ہوں ،اگر میرے پاس ذمہ داری زیادہ ہے تو یہ نہیں مطلب کہ میں آسمان پہ چڑھ جاؤں اور جو آج تک جو ہمارے پاور میں آتے ہیں  اسکے طور طریقے  بدل جاتے ہیں ، میں پھر آپ سے pledge کرتا ہوں کہ یہ ایک غریب ملک کے اندر یہ جو symbols ہیں ، یہ جو ہم بڑے بڑے محلوں میں رہتے ہیں  اور جو بڑے بڑے پروٹوکولز میں رہتے ہیں  عوام کے ٹیکس کے پیسے کے او پر جو حکمران آج  تک عیاشی کرتے ہیں ، میں یہ آپ کے سامنے یہ pledge کرتا ہوں کہ انشاءالله ، انشاءالله یہ ایک بلکل آپ مختلف قسم کی پاکستان میں گورننس دیکھیں گے، میں نے آج تک آپ سے جتنے وعدے کیے ہیں ، میں نے آپکو کہا  کینسر  ہوسپٹل بناؤ، آپ سب نے مجھے پیسے دیے، میں نے آپکو کہا تھا ستر فیصد لوگوں کا مفت علاج ہو گا ، آج الله کے فضل سے دو کینسر ہوسپٹل ہیں پاکستان میں ، دنیا میں کوئی مثال نہیں جدھر ستر فیصد کینسر کے مریضوں کا مفت علاج ہے.

میں نے یونیورسٹی بنائی ، پہلی دیہات کے اندر یونیورسٹی ، میں نے آپکو کہا کہ وہاں غریب لوگوں ، غریب گھرانوں سے لوگوں کو ایک انٹرنیشنل ڈگری دلواؤں گا ، مجھے فخر ہے کہ نّوے فیصد وہاں بچے غریب گھرانوں کے ہیں، جو نمل  یونیورسٹی میں پڑھتے ہیں.

میں آج آپ کے سامنے کہہ رہا ہوں کہ پاکستان کو وہ ملک بناؤں گا جو پہلی دفعہ بجائے  ایک چھوٹے سے الیڈ کے لیے پالیسی بنائیں، ساری پالیسی بنے گی کہ میرا یہ جو غریب طبقہ ہے ، جو پِسا ہوا طبقہ ہے ، جس کے اندر سارے ہیں ، جس میں خواتین ہیں، جس میں  minorities ہیں ، جس میں ہماری minorities نیچے جن کے اوپر ، جن کے حقوق کئی دفعہ جو دئیے ہوئے قانون ہیں وہ بھی نہیں ہم کرتے ، جس میں گھر کے ملازم ہیں . جن کو کوئی rights نہیں ملتے

میری ساری کوشش ہوگی کہ ہم اپنے نیچلے طبقے کو اوپر اٹھائیں، ان کے حقوق کو پروٹیکٹ کریں ،میں ہر اس  نیچلے طبقے ، مظلوم طبقے کے ساتھ انشا ءالله  آپکو کھڑا ہو کر دکھاؤں گا ،

اور جو آخری میرا پوائنٹ ہے  دھاندلی کا ، آج پولیٹیکل پارٹیز کہہ رہی ہیں کہ دھاندلی ہوئی ہے ، سب سے پہلے میں انکو کہوں کہ جو یہ موجودہ الیکشن کمیشن ہے  یہ دو مین پولیٹیکل پارٹیز نے منتخب کی تھی، پیپلز پارٹی اور نون لیگ

یہ الیکشن کمیشن  پی ٹی آئی کی نہیں تھی

اور کیئر ٹیکر گورنمنٹ بھی ان ساری گورنمنٹس نے ، ان ساری پولیٹیکل پارٹیز کی مشاروت سے بنی تھی.
میں آج یہ کہتا ہوں کہ جو بھی آپ کسی حلقے میں آپ کہتے ہیں دھاندلی ہوئی ، ہم آپکی پوری مدد کریں گے ، ہم سارے حلقوں کو کھلوائیں گے ، جو آپ کہتے ہیں کہ جس میں دھاندلی ہوئی ہے

جب ٢٠١٣ کا   الیکشن ہوا ، چار سو  پٹیشنز تھیں ، جس میں لوگوں نے کہا ، ساری پارٹیز نے کہا  دھاندلی ہوئی

اور چار سو  پٹیشنز تھیں الیکشن  کمیشن کے پاس، میں نے کہا چار کھول دو صرف ، چار سو میں سے صرف میں نے کہا  چار سمپل لے لو تاکہ  (دو ہزار اٹھارہ ) کا الیکشن ٹھیک ہو،

یہ ساری پارٹیز جو آج کہہ رہی ہیں کہ دھاندلی ہوئی ، ان سب نے میری مخالفت کی، انہوں نے کسی نے چار حلقے نہیں کھولے، ہم نے عدالت میں جا کے ڈھائی ڈھائی، تین تین  سال کے بعد ہم نے وہ حلقے کھلوائے

آج میں آپکو کہہ رہا ہوں ہماری طرف سے کوئی حلقہ آپ کھولنا چاہتے ہیں جو آپ کہتے ہیں دھاندلی ہو گی، ہم آپ کے ساتھ انویسٹیگیشن کرنے کے لیے تیار ہیں 

میں سمجھتا ہوں کہ یہ پاکستان کا سب سے صاف اور شفاف الیکشن ہوا ہے

میں یہ سمجھتا ہوں کبھی اس طرح کی پاکستانی قوم نے paticipate نہیں کیا الیکشن میں جو آج کیا ہے
اور جو ابھی خدشات ہیں اپوزیشن کے جو کہہ رہے ہیں آج کہ دھاندلی ہوئی ، ہم ان کے ساتھ مل کے ان کو  investigate کرنے کے لیے تیار ہیں

میں پاکستانیوں کا پھر سے شکریہ ادا کرتا ہوں ،اور انشا ءالله  میرے لیے دعا کریں  کہ الله مجھے طاقت دے کہ جو میں نے آپ سے وعدے کیے ہیں  وہ میں پورے کروں


پاکستان زندباد!!!


No comments